دین

 جس راستے پر چلنے سے انسان کو خدا کی پحچان


ملتی ہے اسے دین کہتے ہے اور دین کا دوسرا نام مزہب بھی ہے چونکہ خدا سارے انسانوں کا مالک ہے اور بندوں پر مالک کی بندگی فرض رہا کرتی ہے اس لیے دین اختیار کرنا انسان کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ دین و مزہب ہی سے انسان کو خدا کی پہچان ملتی ہے اور خدا کی بندگی کا طریقہ حاصل ہوتا ہے الله تعالٰی نے قرآن مجید مے اعلان کر دیا ہے،اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰہِ اِسْلاَ مَ یعنی بیشک الله کا مانا ہوا دین ہے صرف اسلام ہے دوسری جگا قرآن شریف الله پاک فرماتا ہے وَمَنۡ یَّتَّبِعُ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنً فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ یعنی اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین چاحے گا تو ہر گز قبول نہیں کیا جاےگا حجرحجرت آدم علیہ السلام سے لیکر سرکار مصطفٰے صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم تک تمام پیغمبروں کا دین صرف اسلام رہا ہے اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کی صرف اللّٰہ تعالٰی سارے جہاں کا اکیلا معبود مانو اللّٰہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا ن بناوٕ صرف ایک اللّٰہ کی عبادت کرو اللّٰہ کے سوا کسی دوسرے کو عبادت کے لائق ن جانو اللّٰہ کے تمام فرشتوں، کتابوں اور پیغمبروں پر ایم ان رکھو قیامت کے دن کو حق جانو مرنے کے بعد دوبارہ زیادہ کیا جانے پر یقین رکھو اپنے اپنے زمانے کے پیغمبروں کے حکم پر چلتے رہو سرکار مصطفےٰ محمد عربی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اخری پیغمبر مانو اپنے اپنے وقت میں ہر پیغمبر نے ان بنیادی باتوں کی تعلیم دی ہے کسی پیغمبر نے ان باتوں میں زرَا سا فرق نہیں دیا دنیا میں دین و مزہب کے نام پر ہزاروں لڑایاں لڑی جاچکی ہے اور آج بھی ایک مزہب کا انسان دوسرے مزہب کے انسان سے بر سرپیکار ہے لیکن یہ سب لڑایاں موٹی سمجھ ہے کی پیدا وار ہیں سیدی بات یہ ہے کہ جس دین کو جدا کی سچّی کتاب تباےٕ وہی دین خدا کے سب بندوں کو کبُل کر لیناں چاہیٓے دیکھو، قرآن مجید خدا کی سچی کتاب ہے سچّے دین کے بارے میں اسکا فیصلا سنو، قرآن فرماتا ہے اِنَّ الذّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامَ یعنی بیشک اللّٰہ کا مانا ہوا دین صرف اسلام ہے آج بھی اگر دنیا کے لوگ قرآن کے اس فیصلہ کو بے چوں وچرا تسلیم کر لیں تو پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ دین کے نام کے بعد جس کّرے عزاب سے پہلا پڑنے والا ہے اس سے نجات مل جائے گی۔ اب دنیا کے لوگوں کو اختیار ہے یاتو عزاب الٰہی بھگتنے کے لیے اپنے کو تیار رکھیں یا قرآن کے

آگے سر تسلیم ختم کر کے اسلام قبُول کر لیں۔

Comments