Posts

رات اور دن کے بارے میں جانو

Image
 ﷲ تعالی جَلَّ شَانُہُ بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا ہے اس نے اپنے بندوں کے فائدے کی خاطر انگارے کی طرح دہکتا ہوا ایک بہت بڑا گولا پیدا فرمایا ہے جسے ہم لوگ سورج کہتے ہیں فارسی زبان میں اس کا نام آفتاب خاور ، خورشید اور عربی میں شمس اور نیّرِ اعظم ہہے                                               ﷲ رب العزت نے سورج کو چکر لگانے پر مقرر فرمایا ہے سورج ہی کے چکر کرنے سے رات اور دن بنتے ہیں چنانچہ جب وہ ہماری زمین کے سامنے پورب سے نکلنے کی تیاری کرتا ہے تو ہمارے یہاں صبح ہوتی ہے اور دن سے شروع ہو جاتا ہے پھر جب وہ دن بھر چلتا ہوں پچھم کی طرف پہنچ کر اوجھل ہوتا ہے تو ہمارے یہاں رات آتی ہے اور دن ختم ہو جاتا ہے رات کے بعد دن کا ہونا اور دن کے بعد رات کا آنا یہ ﷲ تعالی کی طرف سے اس کے بندوں پر بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اگر ہمیشہ صرف دن ہی دن ہوا کرتا تھا یا صرف  رات ہی رات ہوتی تو انسان اور حیوان کی جندگی گزارنا دوبھر ہوجاتا اور دنیا کے ہزاروں کام ٹھپ رہا کرتے لیکن ...

شاعری

Image
 ارض و شما کہاں تیری وسعت کو پا سکے              میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں توسماسکے یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک                           مگر ایسی بھی بےرخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے                                 تنگ آ چکے ہیں کش مکش زندگی سے ہم                         ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دل سے ہم ارض وشما کہاں تیری وسعت کو پا سکے                          میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے کیا تماشا ہے کہ دیوانہ بنا کر اپنا                                      نام مجنوں مِرا اس ہوش رُبانے رکھا جب سوا میرے نہ تھا کوئی نشانہ تیرا      ...

دُنیا

Image
 بچوں تم لوگ اپنی گفتگو میں لفظ دنیا بولتے رہتے ہو اور دوسروں سے اس لفظ کو سنتے بھی ہو چنانچہ کوئی کہتا ہے کہ دنیا بڑی لمبی چوڑی  ہے کوئی بولتا ہے ایک روج دنیا سے جانا ہے اب تم بتاؤ دنیا کا لفظ سن کر تمہاری سمجھ میں کیا آتا ہے خود تم کیا بتا سکو گے ہم سے سنو اللہ تعالی جلاشانہ بڑی نرالی قدرت والا ہے اس کی قدرت کی کچھ حد نہیں اس نے اپنی قدرت سے زمین اور آسمان کے ساتھ ساتھ طبقہ پیدا فرمائے انھیں طبقات کے  مجموعہ کو دنیا کہتے ہیں    اور ہاں زمین کو سن کر تم حیرت  کرتے رہو گے اور سوچتے ہوں گے کہ زمین تو دیکھنے میں ہر طرف سے برابر اور سپاٹ معلوم ہوتی ہے تو پھر گول کیونکر ہے لیکن درحقیقت جمین ایک بہت لمبا چوڑا گولا ہے جیسا کہ زافیہ دانوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اب رہی یہ بات کی ہم جدھر نگاہ ڈالتے ہیں ادھر جمیل برابر ہی دکھائی دیتی ہے کہیں سے بھی وہ ہمیں مری ہوئی نظر نہیں آتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جو جنگجو جمین پر رہتے ہیں اور وہ سینکڑوں میل تک پھیل کر بھی رہے تھے مرتی چلی گئی اس لیے ہمیں اس کی گولائی نظر نہیں آتی بس یوں سمجھ ہو کہ جس طرح ایک بہت بڑے گی...

میڈک

Image
 میڈا ایک ایسا جانور ہے جو پانی کی تہہ میں اور خشکی کے اوپر بڑی آسانی سے رہتا سہتا ہے اس کا بدن موٹا اور بےڈھنگا ہے بڑا سامنہ موٹی موٹی بڑی بڑی آنکھیں ہیں نرم نرم نجلبی کھال بہت چپچپا اور بھنڈا اسی واسطے نہ تو دیکھنے میں خوبصورت لگتا ہے مگر پھر بھی اس میں کی باتیں عجیب و غریب ہے۔  اوّل تو یہی کی جس طرح جمین پر ادھر ادھر پھُدکتا اور چھلانگیں مارتا ہے اسی طرح آسانی کے ساتھ پانی میں تیرتا پھرتا ہے دوسری بات ہے کہ جب وہ پانی میں گھستا مارتا ہے تو ہماری تمہاری طرح دو چار منٹ میں اس کا دم نہیں گھٹتا بلکہ وہ گھنٹوں اندر ہی اندر مزے سے بیٹھا رہتا ہے یا تیرتا پھرتا ہے تیسری بات یہ ہے کہ پانی میں نہ رہے یا بہت سردی ہو تو کبھی تالاب کے نیچے کی مٹی میں کبھی نالوں اور نہروں کے کنارے کے سوراخوں میں یہ مینڈک  اسی طرح رہتے ہیں جسے کوئی سو رہا ہوں اور اسی حالتمیں مہینوں گزارہ کرتے ہیں جب برسات کا موسم آتا ہے تو گویا اس خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں اور ٹرّا ٹرّا کر سارا جنگل سر پر اٹھا لیتے ہیںچوتھی بات یہ ہے کہ میڈک ایسا پھرتیلا اور چاق ہے کی آپنے بیس  گنی اونچائی اچھل جاتا ہے او...

بَادشاہ سُبُک تگِیْنْ

Image
  سبکتگین پہلے ایک معمولی غلام تھا اس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا روزی کی تنگی کے سبب پریشان رہتا تھا روزی حاصل کرنے کے لیے وہ رجانہ جنگل میں جاتا اور جانوروں کا شکار  کرتا تھا ایک دن شکار تلاش کرتا ہوا وہ جنگل میں گھوم رہا تھا اس نے ایک ہرنی دیکھی جو اپنے بچے کے ساتھ چر رہی تھی سبکتگین نے اسے پکڑنے کے لیے گھوڑا دوڑایا ہرنی تو پکڑی نہ جا سکی مگر اس کا ننّھہا بچہ ہاتھ آگیا سبکتگین نے اسے باندھ کر گھوڑے پر رکھ لیا اور شہر کی جانب چل پڑا  ہیر نی نے دیکھا کہ اس کے بچے کو شکاری گھوڑے پر لیے جا رہا ہے تو اس کے دل پر بجلی سی گر گئی وہ بے چین ہوکر سبکتگین کے پیچھے دوڑنے لگی اور فریاد کرنے لگے آگے آگے سبگتگین گھوڑا دوڑاے جا رہا تھا پیچھے پیچھے ہرنی بھی سر جھکا ے چالی آ رہی تھی کچھ دور جانے کے بعد سبکتگین نے مڑ کر دیکھا کہ ہرنی پیچھے پیچھے چلیں اس آراہی ہے اس کے چہرے پر  اداسی چھائی ہے بچے کی محبت میں اتنی کھو گئیکی اسے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں گویا وہ کہہ رہی ہے کہ اے شکاری جب تم نے میرے بچے کو پکڑ لیا ہے تو مجھے بھی مار دوں کیونکہ بچے کے بغیر میری زندگی اجیرن ہے سبکتگین کو ہر...

اہل بیت

Image
 سرکار مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مقدس بیویوں اور اولادوں کو اہل بیت کہتے ہیں اہل کا معنی والے اور بیعت کا معنی گھر لہذا اہل بیت کے مانے ہوئے گھر والے سرکار کی ازواج تائرہ ۱۱ ہیں جن میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام بہت مشہور ہے اللہ تعالی نے سرکار کی ازواج کا نام ام المومنین رکھا ہے ام کا معنی ماں ام المومنین کا معنیٰ مسلمانوں کی ماں پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں تین شہزادے اور شہزادیاں پیدا ہوئے جن کے نام یہ ہیں حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت ابراہیم ﷲ تعالی نے یہ تینوں حضرات اپنی ننھی عمر میں انتقال فرما گئے سرکار کی صاحبزادیوں کے نام یہ ہیں حضرت زینب حضرت رقیہّ حضرت فاطمہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابراہیم کے سوا باقی سب اولادیں المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بطن پاک سے ہے ۔ رہے حضرت ابراہیم تو ہمارے سرکار کی پابندی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بطن مقدس سے ہے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ کے  شوہر کا نام حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ حضرت  زینب کا وصال سن ۸ ھ کو ہوا ہے۔  حضرت...

خِلافَت اور حکومت

Image
 ہمارے سرکار پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲ ربیع الاول مطابق ۲۰ اپریل سنہ ۵۷۱ عیسوی کو دوشنبہ کے دن صبح صادق کے وقت شہر مکہ میں پیدا ہوئے جب چالیس سال کی عمر مبارک ہوئی اور سرکار پر قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تو سرکار نے پہلے اپنے خاص خاص لوگوں کو اپنے ہی نبی ہونے کے بارے میں آگاہ فرمایا تین برس تک اسلام کی خفیہ تبلیغ کی پھر  عام لوگوں کے مجمع میں اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تیرہ برس تک مکہ شریف اور آس پاس کے قبیلوں میں اسلام کی اشاعت کرتے رہے۔  پھر ترپن سال کی عمر شریف میں سرکار نے تبلیغ اسلام کی خاطر مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ تشریف لائیں سرکار کی ہجرت سے پہلے ہی مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو کر سرکار کی غلامی میں داخل ہوچکے تھے جب سرکار مدینہ پہنچے تو ان کی خوشی کا کچھ ٹھکانہ نہ رہا انہوں نے سرکار کے قدموں پر اپنی آنکھیں بھچا دی سرکار کی رضا حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنی دولت اور جایداد نچھاور کر دی  کے ۔  چنانچہ سرکار کے جو صحابہ ہجرت کر کے مدینہ آتے رہیں ان کے کھانے پینے رہنے سہنے کا انتظام بھی انھوں نے اپنے ذمے لے لیا۔  مدینہ کے جانثار صحابیوں کا ل...