رات اور دن کے بارے میں جانو
ﷲ تعالی جَلَّ شَانُہُ بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا ہے اس نے اپنے بندوں کے فائدے کی خاطر انگارے کی طرح دہکتا ہوا ایک بہت بڑا گولا پیدا فرمایا ہے جسے ہم لوگ سورج کہتے ہیں فارسی زبان میں اس کا نام آفتاب خاور ، خورشید اور عربی میں شمس اور نیّرِ اعظم ہہے ﷲ رب العزت نے سورج
کو چکر لگانے پر مقرر فرمایا ہے سورج ہی کے چکر کرنے سے رات اور دن بنتے ہیں چنانچہ جب وہ ہماری زمین کے سامنے پورب سے نکلنے کی تیاری کرتا ہے تو ہمارے یہاں صبح ہوتی ہے اور دن سے شروع ہو جاتا ہے پھر جب وہ دن بھر چلتا ہوں پچھم کی طرف پہنچ کر اوجھل ہوتا ہے تو ہمارے یہاں رات آتی ہے اور دن ختم ہو جاتا ہے رات کے بعد دن کا ہونا اور دن کے بعد رات کا آنا یہ ﷲ تعالی کی طرف سے اس کے بندوں پر بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اگر ہمیشہ صرف دن ہی دن ہوا کرتا تھا یا صرف رات ہی رات ہوتی تو انسان اور حیوان کی جندگی گزارنا دوبھر ہوجاتا اور دنیا کے ہزاروں کام ٹھپ رہا کرتے لیکن یہ ﷲ تعالی کی این رحمت ہے کہ اس نے سورج کو حرکت عطا فرما کر رات اور دن بناۓ اور ہمارے لئے بھی زندگی گزارنا آسان کیا۔
زمین کا گولا آسمان کے پیٹ کے اندر ٹھیک بیچ میں اللہ تعالی کی قدرت سے ٹپکا ہوا ہے اب ہم تمہیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جمیل کا گولا نہ تو لٹو کی طرح ناچتا ہے نہ ایک جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ جاتا ہے بلکہ اپنی جگہ پر تھما ہوا ساکن ہیں اور یہی حال آسمان کے گولے کا بھی ہے کہ وہ اپنی جگہ خاموس جہاں کا تہاں رُکا ہوا ہے ہاں سورج البتہ اپنے گھیرے میں ہر دم چلتا رہتا ہے اور اسی کی چال سے رات اور دن بنتے ہے۔
سورج ہماری زمین کے سامنے پورا سے چلتا ہوا پچھم کو جاتا ہے پھر جمین کے اس پر پچھم سے اس پار گھومتا ہوا پوراب کی طرف واپس آتا ہے اس طرح 24 گھنٹے میں اس کا ایک چکر پورا ہوتا ہے جو کہا جاتا ہے کہ سورج میں ڈھوبتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورج پانی میں چلا جاتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ پچھم کی کی جمین کی آڑ میں ہو جاتا ہے
یہ تمہیں معلوم ہے کی اللہ تعالی جلاجلالہ زمین گول بنائی ہے لہٰذا ایک وقت میں زمین کی پوری گولائی پر سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی بلکہ بعض حصے پر روشنی پڑے گی اور بعض حصّہ سورج سے اوجھل رہے گا تو جمین کے جس حصے پر روشنی پہنچتی ہے
وہاں دن ہوتا ہے اور جو حصہ سورج سے اوجھل ہوتا ہے وہاں رات ہوتی ہے مثلا زمین کے اس پار ہندوستان آباد ہے اور اس پر امریکہ کی آبادی ہے تو جس وقت سورج ہندوستان کے سامنے ہوگا اس وقت امریکہ میں رات ہو گئی اور ہندوستان میں دن ہوگا سورج اس وقت ہندوستان کے اوپر ہے اس لیے یہاں دن ہے اور امریکہ میں رات ہیں اور پھر جب سورج چکّر کرتا ہوں امریکہ کے سامنے پہنچے گا تو وہ اس وقت امریکہ میں دن ہوگا اور ہندوستان میں رات ہو گئی نیچے زمین اور سورج کی تصویر دیکھو اس وقت سورج امریکہ کے سامنے ہیں اس لئے وہاں دن اور ہمارے یہاں ہندوستان میں رات ہے
پیارے بھائی۔بہنوں۔ ہماری گفتگو سے تم نے بخوبی یہ سمجھ لیا ہوگا کی سورج ہی کے چکر اور حرکت زمین کے بعض حصے پر دن ہوتا ہے اور بعض حصہ پر رات ہوتی ہے لیکن بعض لوگ سورج کے بجائے جمین کو متحرک مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ سورج چلتا نہیں بلکہ ساکن ہیں ہاں زمین کا گولا لٹو کی طرح پچھم سے پورب کی طرف ہر دم گھومتا ہے اور اسی کے گھومنے سے رات اور دن بنتے ہیں چنانچہ زمین گھومتے وقت اس کا جو حصہ سورج کے سامنے پڑتا ہے اس میں دن ہوتا ہےاور جو حصہ سورج سے اوجھل رہتا ہے اس میں رات ہوتی ہے
اسلامی نونہالوں ! یہ کہنا ہے کہ ،، زمین چلتی ہے سورج نہیں چلتا ،، غلط ہے حق یہ ہے کہ زمین اپنے مقام میں ٹھہری ہوئی ہے اور سورج اپنے گھرے میں چل رہا ہے کیونکہ جس خدائے پاک نے سورج پیدا کیا خود وہی قرآن مجید میں فرماتا ہے وَالشَّمْسُ تَجْرِی یعنی سورج چلتا ہے دوسری جگہ فرماتے ہیں وَسَخَّرَ لَکُمُ الشَّمْسَ الْقَمَرَ دَآءِبَینِ
پیارے بھائی بہنوں ! آج کل گھٹا ٹوپ گمراہی کا زمانہ ہے اس زمانے میں بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہوئے بھی تعلیم قرآن کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں چنانچہسورج نہیں چلتا بلکہ ہماری زمین جلتی ہے اور یہی بولی دوسرے مسلمان کہلانے والے بھی بھول جاتے ہیں لیکن چونکہ یہ بولی تعلیم قرآن کے خلاف ہے اس لیے تم اس طرح کے مسلمان کہلانے والوں سے دھوکا مت کھانا تم قرآن کی باتوں پر ایمان رکھتے ہوئے اس طرح جمے رہنا جس طرح زمین پر پہاڑ جمع رہتا ہے تم اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا کی تمہیں مسلمان بن کر رہنا ہے مسلمان بن کر جینا ہے اور مسلمان ہی بنکر مرنا ہے قرآن مجید اللہ تعالی کا سچا کلام ہے جو آسمان سے سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا مسلمان اس کے ایک ایک حرف پر ایمان ہوتا ہے جو شخص قرآن مجید کی کسی ایک بات کا انکار کردے وہ مسلمان نہیں رہ جاتا چاہے ساری دنیا اس کو مسلمان کہے لہذا تم کبھی بھی ایسی بات نہ ماننا جو قرآن کے خلاف ہے ۔




Comments
Post a Comment