Posts

Showing posts from March, 2021

رات اور دن کے بارے میں جانو

Image
 ﷲ تعالی جَلَّ شَانُہُ بڑا مہربان ہے نہایت رحم والا ہے اس نے اپنے بندوں کے فائدے کی خاطر انگارے کی طرح دہکتا ہوا ایک بہت بڑا گولا پیدا فرمایا ہے جسے ہم لوگ سورج کہتے ہیں فارسی زبان میں اس کا نام آفتاب خاور ، خورشید اور عربی میں شمس اور نیّرِ اعظم ہہے                                               ﷲ رب العزت نے سورج کو چکر لگانے پر مقرر فرمایا ہے سورج ہی کے چکر کرنے سے رات اور دن بنتے ہیں چنانچہ جب وہ ہماری زمین کے سامنے پورب سے نکلنے کی تیاری کرتا ہے تو ہمارے یہاں صبح ہوتی ہے اور دن سے شروع ہو جاتا ہے پھر جب وہ دن بھر چلتا ہوں پچھم کی طرف پہنچ کر اوجھل ہوتا ہے تو ہمارے یہاں رات آتی ہے اور دن ختم ہو جاتا ہے رات کے بعد دن کا ہونا اور دن کے بعد رات کا آنا یہ ﷲ تعالی کی طرف سے اس کے بندوں پر بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اگر ہمیشہ صرف دن ہی دن ہوا کرتا تھا یا صرف  رات ہی رات ہوتی تو انسان اور حیوان کی جندگی گزارنا دوبھر ہوجاتا اور دنیا کے ہزاروں کام ٹھپ رہا کرتے لیکن ...

شاعری

Image
 ارض و شما کہاں تیری وسعت کو پا سکے              میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں توسماسکے یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک                           مگر ایسی بھی بےرخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے                                 تنگ آ چکے ہیں کش مکش زندگی سے ہم                         ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دل سے ہم ارض وشما کہاں تیری وسعت کو پا سکے                          میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے کیا تماشا ہے کہ دیوانہ بنا کر اپنا                                      نام مجنوں مِرا اس ہوش رُبانے رکھا جب سوا میرے نہ تھا کوئی نشانہ تیرا      ...

دُنیا

Image
 بچوں تم لوگ اپنی گفتگو میں لفظ دنیا بولتے رہتے ہو اور دوسروں سے اس لفظ کو سنتے بھی ہو چنانچہ کوئی کہتا ہے کہ دنیا بڑی لمبی چوڑی  ہے کوئی بولتا ہے ایک روج دنیا سے جانا ہے اب تم بتاؤ دنیا کا لفظ سن کر تمہاری سمجھ میں کیا آتا ہے خود تم کیا بتا سکو گے ہم سے سنو اللہ تعالی جلاشانہ بڑی نرالی قدرت والا ہے اس کی قدرت کی کچھ حد نہیں اس نے اپنی قدرت سے زمین اور آسمان کے ساتھ ساتھ طبقہ پیدا فرمائے انھیں طبقات کے  مجموعہ کو دنیا کہتے ہیں    اور ہاں زمین کو سن کر تم حیرت  کرتے رہو گے اور سوچتے ہوں گے کہ زمین تو دیکھنے میں ہر طرف سے برابر اور سپاٹ معلوم ہوتی ہے تو پھر گول کیونکر ہے لیکن درحقیقت جمین ایک بہت لمبا چوڑا گولا ہے جیسا کہ زافیہ دانوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اب رہی یہ بات کی ہم جدھر نگاہ ڈالتے ہیں ادھر جمیل برابر ہی دکھائی دیتی ہے کہیں سے بھی وہ ہمیں مری ہوئی نظر نہیں آتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جو جنگجو جمین پر رہتے ہیں اور وہ سینکڑوں میل تک پھیل کر بھی رہے تھے مرتی چلی گئی اس لیے ہمیں اس کی گولائی نظر نہیں آتی بس یوں سمجھ ہو کہ جس طرح ایک بہت بڑے گی...