Posts

Showing posts from February, 2021

میڈک

Image
 میڈا ایک ایسا جانور ہے جو پانی کی تہہ میں اور خشکی کے اوپر بڑی آسانی سے رہتا سہتا ہے اس کا بدن موٹا اور بےڈھنگا ہے بڑا سامنہ موٹی موٹی بڑی بڑی آنکھیں ہیں نرم نرم نجلبی کھال بہت چپچپا اور بھنڈا اسی واسطے نہ تو دیکھنے میں خوبصورت لگتا ہے مگر پھر بھی اس میں کی باتیں عجیب و غریب ہے۔  اوّل تو یہی کی جس طرح جمین پر ادھر ادھر پھُدکتا اور چھلانگیں مارتا ہے اسی طرح آسانی کے ساتھ پانی میں تیرتا پھرتا ہے دوسری بات ہے کہ جب وہ پانی میں گھستا مارتا ہے تو ہماری تمہاری طرح دو چار منٹ میں اس کا دم نہیں گھٹتا بلکہ وہ گھنٹوں اندر ہی اندر مزے سے بیٹھا رہتا ہے یا تیرتا پھرتا ہے تیسری بات یہ ہے کہ پانی میں نہ رہے یا بہت سردی ہو تو کبھی تالاب کے نیچے کی مٹی میں کبھی نالوں اور نہروں کے کنارے کے سوراخوں میں یہ مینڈک  اسی طرح رہتے ہیں جسے کوئی سو رہا ہوں اور اسی حالتمیں مہینوں گزارہ کرتے ہیں جب برسات کا موسم آتا ہے تو گویا اس خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں اور ٹرّا ٹرّا کر سارا جنگل سر پر اٹھا لیتے ہیںچوتھی بات یہ ہے کہ میڈک ایسا پھرتیلا اور چاق ہے کی آپنے بیس  گنی اونچائی اچھل جاتا ہے او...

بَادشاہ سُبُک تگِیْنْ

Image
  سبکتگین پہلے ایک معمولی غلام تھا اس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا روزی کی تنگی کے سبب پریشان رہتا تھا روزی حاصل کرنے کے لیے وہ رجانہ جنگل میں جاتا اور جانوروں کا شکار  کرتا تھا ایک دن شکار تلاش کرتا ہوا وہ جنگل میں گھوم رہا تھا اس نے ایک ہرنی دیکھی جو اپنے بچے کے ساتھ چر رہی تھی سبکتگین نے اسے پکڑنے کے لیے گھوڑا دوڑایا ہرنی تو پکڑی نہ جا سکی مگر اس کا ننّھہا بچہ ہاتھ آگیا سبکتگین نے اسے باندھ کر گھوڑے پر رکھ لیا اور شہر کی جانب چل پڑا  ہیر نی نے دیکھا کہ اس کے بچے کو شکاری گھوڑے پر لیے جا رہا ہے تو اس کے دل پر بجلی سی گر گئی وہ بے چین ہوکر سبکتگین کے پیچھے دوڑنے لگی اور فریاد کرنے لگے آگے آگے سبگتگین گھوڑا دوڑاے جا رہا تھا پیچھے پیچھے ہرنی بھی سر جھکا ے چالی آ رہی تھی کچھ دور جانے کے بعد سبکتگین نے مڑ کر دیکھا کہ ہرنی پیچھے پیچھے چلیں اس آراہی ہے اس کے چہرے پر  اداسی چھائی ہے بچے کی محبت میں اتنی کھو گئیکی اسے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں گویا وہ کہہ رہی ہے کہ اے شکاری جب تم نے میرے بچے کو پکڑ لیا ہے تو مجھے بھی مار دوں کیونکہ بچے کے بغیر میری زندگی اجیرن ہے سبکتگین کو ہر...

اہل بیت

Image
 سرکار مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مقدس بیویوں اور اولادوں کو اہل بیت کہتے ہیں اہل کا معنی والے اور بیعت کا معنی گھر لہذا اہل بیت کے مانے ہوئے گھر والے سرکار کی ازواج تائرہ ۱۱ ہیں جن میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام بہت مشہور ہے اللہ تعالی نے سرکار کی ازواج کا نام ام المومنین رکھا ہے ام کا معنی ماں ام المومنین کا معنیٰ مسلمانوں کی ماں پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں تین شہزادے اور شہزادیاں پیدا ہوئے جن کے نام یہ ہیں حضرت قاسم حضرت عبداللہ حضرت ابراہیم ﷲ تعالی نے یہ تینوں حضرات اپنی ننھی عمر میں انتقال فرما گئے سرکار کی صاحبزادیوں کے نام یہ ہیں حضرت زینب حضرت رقیہّ حضرت فاطمہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابراہیم کے سوا باقی سب اولادیں المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بطن پاک سے ہے ۔ رہے حضرت ابراہیم تو ہمارے سرکار کی پابندی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بطن مقدس سے ہے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ کے  شوہر کا نام حضرت ابوالعاص رضی اللہ تعالی عنہ حضرت  زینب کا وصال سن ۸ ھ کو ہوا ہے۔  حضرت...

خِلافَت اور حکومت

Image
 ہمارے سرکار پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲ ربیع الاول مطابق ۲۰ اپریل سنہ ۵۷۱ عیسوی کو دوشنبہ کے دن صبح صادق کے وقت شہر مکہ میں پیدا ہوئے جب چالیس سال کی عمر مبارک ہوئی اور سرکار پر قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تو سرکار نے پہلے اپنے خاص خاص لوگوں کو اپنے ہی نبی ہونے کے بارے میں آگاہ فرمایا تین برس تک اسلام کی خفیہ تبلیغ کی پھر  عام لوگوں کے مجمع میں اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تیرہ برس تک مکہ شریف اور آس پاس کے قبیلوں میں اسلام کی اشاعت کرتے رہے۔  پھر ترپن سال کی عمر شریف میں سرکار نے تبلیغ اسلام کی خاطر مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ تشریف لائیں سرکار کی ہجرت سے پہلے ہی مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو کر سرکار کی غلامی میں داخل ہوچکے تھے جب سرکار مدینہ پہنچے تو ان کی خوشی کا کچھ ٹھکانہ نہ رہا انہوں نے سرکار کے قدموں پر اپنی آنکھیں بھچا دی سرکار کی رضا حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنی دولت اور جایداد نچھاور کر دی  کے ۔  چنانچہ سرکار کے جو صحابہ ہجرت کر کے مدینہ آتے رہیں ان کے کھانے پینے رہنے سہنے کا انتظام بھی انھوں نے اپنے ذمے لے لیا۔  مدینہ کے جانثار صحابیوں کا ل...

ہندوستان

Image
 ہندوستان ایک بہت ہی قدیم اور وسیع ملک ہے اس کو عربی میں ہند اور انگریزی میں انڈیا کہتے ہیں اگر تم ہندوستان کے بیچ میں کھڑے ہو جاؤ تو پورب کی سمت بنگال اور پچھم کی جانب گجرات اتر کی طرف کشمیر اور دکھن کے رُخ پر راس کماری پڑے گا ہندوستان کی لمبائی کشمیر سے راس کماری تک 1950 میل ہے اور گجرات سے بنگال تک چوڑائی 1560 میل ہے اب تک اس بات کا صحیح پتہ نہیں لگایا جاسکاکہ اس ملک میں انسانی آبادی کب سے شروع ہوئی سراغ لگانے والوں کا قیاس اور اندازہ یہ ہے کہ آج سے تقریبا پانچ ہزار سال پہلے ہندوستان میں کوئی قصبہ اور سحر نہیں تھا اس وقت تھوڑے بہت جو انسان تھے بھی تو ان کی کوئی مستقل آبادی نہ تھی بلکہ جنگلوں میں ادھر ادھر متفرق طور پر رہا کرتے تھے درختوں  کے پھل اور جانوروں کے گوشت پر ان کی زندگی بسر ہوتی تھی پتھر کے اوزار اور سامان بنا کر نکا لتے تھے۔  پھر جب آدمیوں کی تعداد بڑھی اور ان میں کچھ لوگ سوجھ بوجھ والے پیدا ہوئے تو لوہے اور تانبے اور دوسری دھاتوں کے اقدار سامان بنانے لگے اور کھیتی بھی کرنا شروع کر دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جزیرہ نکوبار یا کسی اور جگہ سے یہاں آئے تھے لیکن چونکہ...

سَرکارِ مُصَطفٰے صَلیٰ ﷲ علیہ وسلم

Image
 ہمارے سرکار پیارے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہلے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام دنیا میں تشریف لائیں پھر سب سے آخر میں اللہ تعالی نے پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہاں کا رسول بنا کر بھیجا ہمارے سرکار کے بعد نہ تو کوئی بلندی پیدا ہوا نہ قیامت تک پیدا ہو سکتا دوسرے انبیاء کرام صرف اپنی قوموں کی طرف پیغمبر ہو کر تشریف لاتے رہے ہیں لیکن ہمارے سرکار پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ قوم میں پیدا ہوئے مگر آپ صرف ربو ہی کی نہیں بلکہ دنیا کے تمام قوموں کے نبی ہیں بلکہ آپ کی نبوت کا دائرہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے چنانچہ سرکار فرماتے ہیں   یعنی ہر ایک مخلوق کا رسول ہوں کر آیا ہوں صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انسان جنات حیوانات نباتات و جمادات فرشتے زمین آسمان سورج چاند ستارے وغیرہ سب کے رسول اور پیغمبر ہیں اور ان سب پر پیارے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حکم ماننا واجب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سرکار نے آسمان پر چمکتے چاند کی طرف اپنے نورانی انگلی سے اشارہ کر دیا تو چاند نے لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود اپنا...

نِرالِی شان والا

Image
  سارے جہاں کا پروردگار ایک اللہ ہے وہ یکتا اور بے مثل ہے نہ وہ کسی کی طرح ہے نہ کوئی چیز اس کی طرح ہے وہ حَیْ ہے یعنی اپنے آپ زندہ ہے اور دوسری چیزیں اس کے زندہ رکھنے سے  زندہ رہتی ہیں وہ کان  ، ناک ، زبان ، انکھ وغیرہ اعضاء سے پاک ہے وہ بہت ہی نرالی شان والا ہے۔ دیکھو انسان جبان کے بغیر کچھ سن نہیں سکتا لیکن اللہ تعالی کسی عجیب شان  والا ہے وہ کلام کرتا ہے کہ مگر جبان سے پاک ہے وہ ہر چیز دیکھتا ہے یہاں تک کہ ہواؤں اور آوازوں کو بھی دیکھتا ہے مگر انکھ سے پاک ہے وہ ہر بات سنتا ہے مگر کان  سے پاک ہے وہ نہ تو سوتا ہے نا اونگھتا ہے نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اس کی بات ہر بات انوکھی ہے اس کی حقیقت سمجھ سے باہر ہے ۔ جَلِّ جَلالہ دیکھو دنیا اگرچہ ہزاروں برس سے موجود ہیں مگر اس کے وجود کی ابتدا ضروری ہے کیونکہ دنیا اور اس کی ہر چیز مثلاً زمین و آسمان ، آفتاب ، وماہتاب ، بحروبر ، سجروحجر  انسان و حیوان وغیرہ سب تو نوپید  یعنی پہلے نہیں تھیں بعد میں سب ہوئے لیکن ﷲ تعالی تو اس کے وجود کی کچھ ابتدا نہیں وہ اَزلِی ہے یعنی ہمیشہ سے رہا ہے اور ابدی ہے یعنی ہمیشہ رہے گا...

ﷲ تعالیٰ کی مخلوق

Image
 اللہ تعالی نے دنیا میں ان گنت اور بے شمار چیزیں پیدا فرمائی ہے ان سب کا کام اور نام معلوم نہیں البتہ جن، بعض چیزوں تک ہمارے علم کی رسائی ہے ان کی تین قسم ہیں حیوان ، نبات، جماد، حیوان اس مخلوق کو کہیتے ہے  جس میں جان ہوتی ہے اور اس کا   جب جی چاہے  چل پھر سکتی ہے  جیسے گھوڑا  ،خچر ، اور گدھے   بھیڑیا بیل گائے بھینس بندر بلی چوہا وغیرہ ان میں ایک ایک کو حیوان اور کئی ایک کو حیوانات کہتے ہیں انسان اور جنات بھی حیوان ہی  ہوتے ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالی نے ان دونوں کو دیگر حیوانوں پر فضیلت دی ہے اس لیے اپنی بول چال میں ان کے لیے حیوان کا لفظ نہیں بولا جاتا ہے                                                                                      نبات ۔ اس مخلوق کو کہتے ہیں جو زمین سے اگتی ہے اپنے آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا نہ...

قرآن مجید

Image
 قرآن مجید ﷲ تعالی کا سچا کلام ہے یہ اکٹھا ایک بار نہیں اترا بلکہ تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا ہے ﷲ تعالی جب چاہتا حضرت جبریل علیہ السلام کو اپنا کلام بھیجتا وہ حضور پرنور سرکار مصطفی صلے ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور ﷲ تعالی کا بھیجا ہوا کلام حضور کو سنا دیتے پھر حضور اس کو یاد کر لیتے  اور کسی صحابی کو بلوا کر لکھوا دیتےاس طرح تیس برس میں پورا قرآن مجید نازل ہوا قرآن شریف سے پہلے ﷲ تعالی نے جتنی کتابیں آسمان سے نازل فرمائی ہیں ان سب پر ہمارا ایمان ہے لیکن ان میں بہت سی کتابیں تو دنیا سے نابود ھوگئیں اور بعض  موجود ہے ان میں مکار لوگں نے بہت کچھ گھٹا بڑھا دیا ہے اس لیے اب وہ اصلی آسمانی کتابیں نہیں رہ گئی قرآن شریف کو نازل ہوئی چودہ سو برس سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن اس طرح میں آج تک ایک حرف کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی جیسا پہلے دن نازل ہوا تھا ویسا ہی بعَینہٖ آج بھی موجود ہے اگر چا دشمنوں نے  قرآن کے خلاف بہت کچھ ہاتھ پیر مارا مگر اس میں اب تک ایک نقطہ یا زبر ، زیر کا فرق نہیں پڑا۔ بس آسمانی کتابوں میں اس وقت صرف قرآن مجید ہی ایک ایسی کتاب ہے جوہر طرح ...