ہندوستان
ہندوستان
ایک بہت ہی قدیم اور وسیع ملک ہے اس کو عربی میں ہند اور انگریزی میں انڈیا کہتے ہیں اگر تم ہندوستان کے بیچ میں کھڑے ہو جاؤ تو پورب کی سمت بنگال اور پچھم کی جانب گجرات اتر کی طرف کشمیر اور دکھن کے رُخ پر راس کماری پڑے گا ہندوستان کی لمبائی کشمیر سے راس کماری تک 1950 میل ہے اور گجرات سے بنگال تک چوڑائی 1560 میل ہے اب تک اس بات کا صحیح پتہ نہیں لگایا جاسکاکہ اس ملک میں انسانی آبادی کب سے شروع ہوئی سراغ لگانے والوں کا قیاس اور اندازہ یہ ہے کہ آج سے تقریبا پانچ ہزار سال پہلے ہندوستان میں کوئی قصبہ اور سحر نہیں تھا اس وقت تھوڑے بہت جو انسان تھے بھی تو ان کی کوئی مستقل آبادی نہ تھی بلکہ جنگلوں میں ادھر ادھر متفرق طور پر رہا کرتے تھے درختوں کے پھل اور جانوروں کے گوشت پر ان کی زندگی بسر ہوتی تھی پتھر کے اوزار اور سامان بنا کر نکا لتے تھے۔
پھر جب آدمیوں کی تعداد بڑھی اور ان میں کچھ لوگ سوجھ بوجھ والے پیدا ہوئے تو لوہے اور تانبے اور دوسری دھاتوں کے اقدار سامان بنانے لگے اور کھیتی بھی کرنا شروع کر دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جزیرہ نکوبار یا کسی اور جگہ سے یہاں آئے تھے لیکن چونکہ ہندوستان میں بس نہ اور رہنا انہی لوگوں نے شروع کیا تھا اس لئے یہاں کے اصلی قدیم باشندے یہی لوگ کہے جا سکتے ہیں پھر کچھ عرصہ کے بعد شمال اور مغربکے راستے سے ہندوستان میں ایک نئی قوم داخل ہوئی جس کا نام تاریخ کی کتابوں میں دراوڑ بتایا گیا ہے دراوڑ کے قوم کے لوگ تہذیب اور شائستگی میں یہاں کے قدیم باشندوں سے آگے تھے یہ لوگ کھیتی کے ساتھ تجارت کا بھی سلیقہ رکھتے تھے دھاتوں سے اچھے اچھے سامان اور ہتھیار بناتے تھے وہز کی وجہ سے انہیں لوگوں کا یہاں راج پاٹ تھا قدیم باشندوں کی حیثیت سے ان لوگوں کے سامنے غلاموں اور نوکروں جیسی تھے
پھر ایک لمبی مدت کے بعد ایک تیسری قوم ہندوستان میں داخل ہوئی جس کا نام تاریخ کی کتابوں میں آریہ ہے اس کوم کو آرین بھی کہا جاتا ہے آج سے تقریبا ساڑھے تین ہزار سال پہلے کی بات ہے کی دریائے سیحون کے آس پاس اور کوہ قاف کے ہرے بھرے ہصوں میں آریہ آباد تھے ان لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی تھا ان کی زمین زرخیر تھیں غلہّ افراط سے پیدا ہوتا تھا لیکن جب ان کی آبادی بہت بڑھ گئی تو روزی کی تلاش میں اس کوم کے ہزاروں آدمی اپنے وطن سے نکل پڑیں اور ایران ، افغانستان ہوتے ہوئے ہندوستان میں آئے پہلے پنجاب کے سرسبز و شاداب میدانوں میں آباد ہوے پھر رفتہ رفتہ اگے بڑھتے گئے اور دریائے گنگا اور جنا کے دو آبے پر بھی انھوں نے قبضہ کر لیا
آریہ قوم کے آنے سے پہلے یہاں دراوڑں کا زور اور انہیں کا راج تھا پھر جب آریہ ہندوستان میں داخل ہوئے تو دراڑوں سے ان کی لڑائی چھڑ گئی مگر چونکہ کیاریوں کی طاقت زیادہ تھی اس لئے دراوڑ لڑائی میں شکست کھا گئے جنگ ختم ہونے کے بعد ڈراوڑں نے آر یو کی غلامی قبول کر لی وہ تو یہی رہ گئے باقی غیرت مند دراوڑ اریوں کے پنجے سے نکل کر ہندوستان کے جنوبی علاقے میں چلے گئے اور وہی بودوباش اختیار کر لیں آج کل ہندوستان میں جو قومںیں سنتھال بھیل وغیرہ کے نام ہیں جابجا آباد ہیں وہ اسی دراوڑ قوم کی اولاد ہیں سمال ہندوستان میں جو دراوڑیوں کی غلامی میں رہ گئے تھے
انکا حل ہمیشہ ہی خراب رہا اریوں نے انہیں نیچ زات قرار دے رکھا تھا اسی لئے ان کو شودر کے نام سے یاد کیا کرتے تھے آریوں کے علاوہ چند اور بھی مسحور قوم منگول پوچھیں سطح ہون وغیرہ ہندوستان میں آئے انہیں جہاں آبادی کے لائق زمین ملی وہاں آبادی ہوتی گئی موجودہ زمانے کے ہندو لوگ انہیں آریو کی نسل سے ہے جو دوسرے ملکوں سے آکر ہندوستان میں آباد ہیں



Comments
Post a Comment