ﷲ تعالیٰ کی مخلوق
اللہ تعالی نے دنیا میں ان گنت اور بے شمار چیزیں
پیدا فرمائی ہے ان سب کا کام اور نام معلوم نہیں البتہ جن، بعض چیزوں تک ہمارے علم کی رسائی ہے ان کی تین قسم ہیں حیوان ، نبات، جماد، حیوان اس مخلوق کو کہیتے ہے جس میں جان ہوتی ہے اور اس کا جب جی چاہے چل پھر سکتی ہے جیسے گھوڑا ،خچر ، اور گدھے بھیڑیا بیل گائے بھینس بندر بلی چوہا وغیرہ ان میں ایک ایک کو حیوان اور کئی ایک کو حیوانات کہتے ہیں انسان اور جنات بھی حیوان ہی ہوتے ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالی نے ان دونوں کو دیگر حیوانوں پر فضیلت دی ہے اس لیے اپنی بول چال میں ان کے لیے حیوان کا لفظ نہیں بولا جاتا ہے
نبات۔ اس مخلوق کو کہتے ہیں جو زمین سے اگتی ہے اپنے آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا نہیں سکتی مگر اپنی جگہ پر رہ کر بڑھتی اور پھیلتی ہے جیسے عام ، جامن ، املی ، نیم ، برگد ، وغیرہ کے درخت اور گیہوں ، جو ، چنا ، مٹر ، وغیرہ اور ککڑی ، کھیرا ، تربوز ، نبنواں، لوکی ، وغیرہ بیلیں اس قسم کی چیزوں کو نباتات کہتے ہیں۔
جماد ۔ اس مخلوق کو کہتے ہیں جس میں نہ تو جان ہوتی ہے نہ زمیں سے اگتی ہے نہ درختوں کی طرح بڑھتی جیسے مٹی ، آگ ، ہوا ، پتھر ، کنکر ، لوہا ، سونا ، چاندی ، تانبا ، اور نمک وغیرہ اس قسم کی چیزوں کو جمادات کہتے ہیں ۔ پیارے بچو!
کبھی تم نے یہ سوچا ہے کہ اللہ تعالی نے حیوان مبات اور جماد کس لئے پیدا فرمایا تو ؟لو ہم سے سنو ! اللہ تعالی نے یہ مخلوقات انسان کے فائدے کے لئے پیدا فرمائی ہے اللہ تعالی انسان پر بڑاہی رحیم و مہربان ہی اس نے زمین کا فرش بچھایا تھا کہ انسان اس پر رہے سہے چلے پھرے اس پر کھیتی کرے اللہ پاک نے زمین و آسمان کے درمیان ہوگا سمندر رکھا تاکہ اس میں سانس لے کر ترو تازہ رہے رَبّ العٰلمین نے پانی پےدا کیا تاکہ انسان اس سے اپنی پیاس بجھاے جب جی چاہے نہاے دھوے اپنے گندے اور ناپاک کپڑے صاف ستھرا کرے ضروریات کے وقت اپنے کھیتوں کی آبپاشی کرے۔
خدائے تعالی نے گھوڑے اونٹ کھچر وغیرہ پیدا کئے تاکہ انسان ان جانوروں پر سوار ہو کر جہاں چاہے آ جا سکے اور اپنے اسباب و سامان ان پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا سکے ﷲ تعالی نے بیل بھنیسے پیدا کئے تاکہ انسان کے ذریعے سے کھیتوں کی جتای کر سکے ان کو اپنے گاڑیوں میں جوت کر جہاں چاہے اپنی گاڑیاں لے جا سکے۔
اللہ پاک نے بکری بھیڑ اور گائے بھنیس وغیرہ پیدا کی تاکہ انسان جانوروں سے دودھ حاصل کرے دودھ سے گھی مکھن دہی تیار کرے اور جب چاہے ان جانوروں کو ذبح کرے ان کا گوشت کھائے اللہ پاک نے زمین سے طرح طرح کے اناج مثلاً چنا ، ارہر ، مسور ، مٹر ، و غیرہ اگائے تاکہ انسان ان گلو کو اپنی خوراک بنا ئے اللہ تعالی نے قسم قسم کی مشلًا سیب ،ناسپاتی ،آم ،لیچی ، خربوزہ ، انگور وغیرہ پیدا کے تاکہ انسان ان پھلوں کو استمال کرکے اپنے جسم کو تو انا اور دل و دماغ کو قوی بناۓ۔
اللہ تعالی نے سونا ، چاندی ، لوہا ، تانبا، المونیم ، وغیرہ دھاتویں پیدا فرمائی ہیں تاکۓ انسان ان دھاتوں سےاپنے سکڑوں کام نکالے۔
بچوں!
ﷲ تعالی نے جس قدر احسان انسانوں پر کیے ہیں اور جتنی نعمتوں اور احسانوں کے لئے پیدا کی ہیں اگر کوئی ان کا شمار کرنا چاہے تو ہرگز نہیں کر سکتا ہر انسان خدائے تعالیٰ کی لاکھوں نعمتوں اور احسانوں کے اندر سر سے پیر تک ڈوبا ہوا ہے اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ ﷲ تعالی کو پہنچا نے اس کو اپنا مہربان مالک جانے اس کے احسان کا اقرار کرے ہر دم اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اس کی بندگی سے کبھی منھ نہ موڑے۔





Comments
Post a Comment