سَرکارِ مُصَطفٰے صَلیٰ ﷲ علیہ وسلم
ہمارے سرکار پیارے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہلے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام دنیا میں تشریف لائیں پھر سب سے آخر میں اللہ تعالی نے پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہاں کا رسول بنا کر بھیجا ہمارے سرکار کے بعد نہ تو کوئی بلندی پیدا ہوا نہ قیامت تک پیدا ہو سکتا
دوسرے انبیاء کرام صرف اپنی قوموں کی طرف پیغمبر ہو کر تشریف لاتے رہے ہیں لیکن ہمارے سرکار پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ قوم میں پیدا ہوئے مگر آپ صرف ربو ہی کی نہیں بلکہ دنیا کے تمام قوموں کے نبی ہیں بلکہ آپ کی نبوت کا دائرہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے چنانچہ سرکار فرماتے ہیں یعنی ہر ایک مخلوق کا رسول ہوں کر آیا ہوں صلی اللہ علیہ وسلم۔
اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انسان جنات حیوانات نباتات و جمادات فرشتے زمین آسمان سورج چاند ستارے وغیرہ سب کے رسول اور پیغمبر ہیں اور ان سب پر پیارے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حکم ماننا واجب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب سرکار نے آسمان پر چمکتے چاند کی طرف اپنے نورانی انگلی سے اشارہ کر دیا تو چاند نے لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود اپنا سینا چیر دیا اور خود دو ٹکڑے ہوگیا یوں ہی جب سرکار نے درختوں کو طلب فرمایا تو وہ اپنی جگہ سے اکھڑے اور زمین پر گھسیٹتے ہوئے چل کر سرکار کے سامنے حاضر ہو گے۔
شاید کسی کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہو گئی بے جان درختوں کو کیا معلوم کہ مکّہ شریف کے مَحمّد عربی علیہ الصلاۃ والسلام اللہ تعالی کے نبی ہیں اور یہ کہ ان کا حکم ماننا فرض ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ چند قافر انسان اور جنات کو چھوڑ کر باقی عالم کی ساری چیزیں میدان کا ایک ایک زرہ، سمندر کا ایک ایک قطرہ ، درخت کا ایک ایک تِنکا ، آسمان کا ایک ایک تارہ ، سب کے سب جانتے ہیں کہ سرکار مصطفی مَحمّد عربی صلی اللہ علیہ وسلم خداے پاک کے رسول اور ہم سب کے نبی ہے۔
کیا تم نے نہیں سنا کہ کنگروں نے بھرے مجمع میں سرکار کا کلمہ پڑھا جانوروں اور درختوں نے سرکار کو سجداہ پتھروں نے سرکار کو سلام کیا جو ایک خشک لکڑی تھی سرکار کی محبت میں پھوٹ پھوٹ کر رویی اس کے رونے کو صہابہ کرام اپنے کانوں سے سنا صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
ایمان تازہ کرنے کے لیے آخر میں ایک حدیث شریف سن لو ہمارے پیارے مصطفی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں مَامِنْ شَيْءٍ الِّٰا یعلَمُ اِنِّیْ رَسُولُ اللَّهِ الِآّکفرتہِ الِجِنِّ وَالانسِ . یعنی چند بے ایمان ہر چیز ﷲکے رسول مانتی ہے صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم



Comments
Post a Comment