قرآن مجید

 قرآن مجید


ﷲ تعالی کا سچا کلام ہے یہ اکٹھا ایک بار نہیں اترا بلکہ تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا ہے ﷲ تعالی جب چاہتا حضرت جبریل علیہ السلام کو اپنا کلام بھیجتا وہ حضور پرنور سرکار مصطفی صلے ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور ﷲ تعالی کا بھیجا ہوا کلام حضور کو سنا دیتے پھر حضور اس کو یاد کر لیتے  اور کسی صحابی کو بلوا کر لکھوا دیتےاس طرح تیس برس میں پورا قرآن مجید نازل ہوا قرآن شریف سے پہلے ﷲ تعالی نے جتنی کتابیں آسمان سے نازل فرمائی ہیں ان سب پر ہمارا ایمان ہے لیکن ان میں بہت سی کتابیں تو دنیا سے نابود ھوگئیں اور بعض  موجود ہے ان میں مکار لوگں نے بہت کچھ گھٹا بڑھا دیا ہے اس لیے اب وہ اصلی آسمانی کتابیں نہیں رہ گئی قرآن شریف کو نازل ہوئی چودہ سو برس سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن اس طرح میں آج تک ایک حرف کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی جیسا پہلے دن نازل ہوا تھا ویسا ہی بعَینہٖ آج بھی موجود ہے اگر چا دشمنوں نے  قرآن کے خلاف بہت کچھ ہاتھ پیر مارا مگر اس میں اب تک ایک نقطہ یا زبر ، زیر کا فرق نہیں پڑا۔ بس آسمانی کتابوں میں اس وقت صرف قرآن مجید ہی ایک ایسی کتاب ہے جوہر طرح کی کاٹ چھانٹ سے بلکل محفوظ ہے۔

دیکھو توریت شریف سریانی زبان میں اور انجیل مقدس عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی اور قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ آج تم عرب ، ایران ، چین ، جاپان ، مصر ، شام ترکی ، جرمنی ، فرانس ، روس ، افریقہ ، امریکا وغیرہ دنیا کے جس کونے میں چلے جاوٕ وہاں تم قرآن پاک عربی ہی زبان ہی زبان میں ملے گا لیکن اگر تم اصلی توریت وانجیل کے لیے پوری دنیا چھان مارو تـو تمہیں سریانی زبان والی توریت اور عبرانی زبان والی انجیل کہیں بھی نہ ملے گی۔ عرب کے کافروں کو اپنی عربی زبان پر بڑا ناز تھا وہ لوگ اپنی عربی زبان کے بل پر دنیا کے تمام انسانوں کو گونگا اور جانور سمجھتے تھے جب قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہونا شروع ہوا اور حضور ﷺ نے قرآن مجید کی آیتیں عرب کے کافروں کو سنایں تو انھوں نے قرآن کو خدا کا کلام مننے سے انکار کر دیا اور بولے ک یہ تو کسی  انسان کا بنایا ہوا کام ہے۔ اس پر کافروں کو للکارا گیا کہ قرآن تو ﷲ کا کلام ہے لیکن اگر تمہارے خیال میں یہ انسان

کا بنایا ہوا کلام ہے تو لوگ بھی انسان ہو تم میں جتنے آدمی قابل اور اونچے دماغ والے ہیں سب مل کر زور لگا واور قرآن جتنی کوئی ایک سورہ بنا کر پیش کرو۔ عربی زبان پر فخر کرنے والے کافر اس اعلان کو سن کر بہت کچھ اچھلیے کو دے بڑا زور باندھا لیکن قرآن جیسا ایک سوچ کا بھی کلام بنا کر وہ مقابلہ نہ لا سکے ۔اس لیے کی قرآن مجید انسان کا کلام نہیں بلکہ وہ سچے خدا کا کلام ہے اس کا مقابلہ انسان تو کیا جن اور فرشتے بھی نہیں کر سکتے اسی لیے یہ حقیقت سیکڑوں برس پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ قرآن ﷲ تعالی کا برحق کلام اور اس کی سچّی کتاب آج بھی ہر آدمی سے قرآن کا یہ سوال ہے کہ بتاؤ تم مجھے خدا کا کلام مانتے ہو یا انسان کا؟اگر جواب دینے والا یہ کہے دے کی آیت قرآن میں تجھے خدا کا کلام مانتا ہوں تو اس کی رہائی ہے اور اگر یہ جواب دے کی ایک قرآن میں تجھے خدا کا کلام نہیں مانتا میں تجھے انسان کا کلام مانگتا ہوں تو قرآن  گرج کر فرماتا ہے اور انکار کرنے والے تم اتنا کہ کر  چھٹی نہیں پاسکتے سنو تمہارے گمان میں یہ قرآن انسان کا کلام ہے تو تم بھی انسان ہوں تم بھی قرآن جیسا کلام تیار کرکے میرے مقابلے پر لاو۔ 

اگر تم سے تنہا نہ ہو سکے تو تم اپنے ساتھیوں کو بلا لو اور تم سب مل کر میرا مطالبہ پورا کرو لیکن ہمیشہ سے یہی ہوتا رہا ہے کہ قرآن کی اس کے مطالبہ کو سن کر بڑے سے بڑے قابل اور فاضل انسان اپنی ساری چوکڑی بھول گئے اور دم بخود ہو جانے کے سوا کچھ بننا پڑا کیوں ؟ اس لئے کہ یہ قرآن انسان کا کلام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو بھلا انسان اس کے مقابلے پر کیوں کر ٹھہر سکتا ہے۔


Comments