خِلافَت اور حکومت

 ہمارے سرکار پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲ ربیع الاول مطابق ۲۰ اپریل سنہ ۵۷۱ عیسوی کو دوشنبہ کے دن صبح صادق کے وقت شہر مکہ میں پیدا ہوئے جب چالیس سال کی عمر مبارک ہوئی اور سرکار پر قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تو سرکار نے پہلے اپنے خاص خاص لوگوں کو اپنے ہی نبی ہونے کے بارے میں آگاہ فرمایا تین برس تک اسلام کی خفیہ تبلیغ کی پھر  عام لوگوں کے مجمع میں اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تیرہ برس تک مکہ شریف اور آس پاس کے قبیلوں میں اسلام کی اشاعت کرتے رہے۔ 


پھر ترپن سال کی عمر شریف میں سرکار نے تبلیغ اسلام کی خاطر مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ تشریف لائیں سرکار کی ہجرت سے پہلے ہی مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو کر سرکار کی غلامی میں داخل ہوچکے تھے جب سرکار مدینہ پہنچے تو ان کی خوشی کا کچھ ٹھکانہ نہ رہا انہوں نے سرکار کے قدموں پر اپنی آنکھیں بھچا دی سرکار کی رضا حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنی دولت اور جایداد نچھاور کر دی  کے ۔ 

چنانچہ سرکار کے جو صحابہ ہجرت کر کے مدینہ آتے رہیں ان کے کھانے پینے رہنے سہنے کا انتظام بھی انھوں نے اپنے ذمے لے لیا۔ 


مدینہ کے جانثار صحابیوں کا لقب انصار ہے اور جو صحابہ سرکار کی محبت میں اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینہ چلے آئے تھے ان کو مہاجرین کہتے ہیں سرکار مدینہ پہنچ کر صرف دس برس کے اندر پورے عرب میں اسلام پھیلا دیا جب قرآن مجید مکمل ہوچکا اور دین پختہ ہو گیا تو سرکار نے ۱۲ ربیع الاول سنہ۱۱ ہجری کے مطابق ۱۲ جون سنہ ۶۳۲ عیسوی دوشنبہ کے دن مدینہ شریف میں وصال فرمایا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مقدّس حجرے میں دفن کیے گئے چونکہ ہمارے سرکار پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خدائے پاک رسول ہو کر تشریف لائے تھے اس لئے مسلمانوں کے اصل حاکم ہمیشہ ہمارے سرکار رہے ہی رہیں گے۔ لیکن جب سرکار نے اس دنیا سے پردہ فرما لیا تو اس بات کی سخت ضرورت ہے سائل کی کسی شخص کو سرکار کا جانشین مقرر کیا جائے اور اس کو سرکار کی جگہ پر تسلیم کیا جائے تاکہ وہ حکومت کے درمیان انصاف کرے مجرم کو سزا دے۔ لیکن جب سرکار نے اس دنیا سے پردہ فرما لیا تو اس بات کی سخت ضرورت ہے سائل کی کسی شخص کو سرکار کا جانشین مقرر کیا جائے اور اس کو سرکار کی جگہ پر تسلیم کیا جائے تاکہ وہ حکومت کے درمیان انصاف کرے مجرم کو سزا دے۔ 


لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرے کافروں سے زیاد کے لیے لکھ کر بھیجے فساد و فتنہ کی روک تھام کرے مسلمانوں کو سرکار کے راستے پر چلائے چنانچہ مہاجرین اور انصاف نے ایک رائے ہو کر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ اور جانشین منتخب کیا اور سب نے یک بعد دیگرے آپ کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کی یعنی آپ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر اقرار کیا کہ ہم لوگ آپ کا حکم مانےگے اور ہر معاملہ میں آپ کی اطاعت کریں گے۔ 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے خلیفہ ہونے کے بعد اسلام کی بڑی شاندار خدمات انجام دیں آپ کی مثال کے بعد سنت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے زمانے میں عراق، ایران، مصر اور شام تک اسلام پھیل گیا آپ نے 10برس 6 مہینے تک بڑے دبدبہ کے ساتھ حکومت کی آپ کے شہید ہونے کے بعد سن 24 ہجری میں مہاجرین اور انصاف نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ چنا حضرت عثمان غنی نے چند روز کم بارہ برس تک خلافت کی آپ کے دور حکومت میں کئی ایک نے ملک فتح ہو کر  اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے۔


آپ کی شہادت کے بعد سن 35 ہجری میں مہاجرین  اور انصار نے حضرت مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ منتخب کیا حضرت مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے چار برس نو مھینے خلافت کا کام انجام دیا پھر آپ کی شہادت کے بعد حضرات صحابہ اور دوسرے مسلمانوں نے جس میں 40 ہمیں آپ کے بڑے صاحبزادے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ منتخب کیا تھا چھ ماہ کار  خلافت انجام دینے کے بعدحضرت امام نے خلافت کی ڈوری سن ۴۱ ہجری  میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سونپ دی حضرت امیر معاویہ نے ۱۹ سال تین ماہ تک بڑی شاندار حکومت کی اور جب سن ۲۰ ہجری میں وصال فرمایا آپ کے بعد تخت سلطنت پر آپ کا بیٹا یا زید بیٹھا یہ  شخص حکومت پاکر جابر بادشاہ کا نمونہ بن گیا اس کے دور حکومت میں لوگوں پر بڑا ظلم ہوا اسی کی فوج نے دس محرم سن ۶۱ ہجری کو جمعہ کے  دن حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے ساتھیوں کو بڑی بےدردی کے ساتھ شہید کیا اس نے تین برس نو مہنیے حکومت کی اور 12 ربیع الاول سن ۶۴ ہجری میں انتقال ہو گیا۔ 


پھر مروان بن حکم اُموی نے ملک شام  کے لوگوں کی مدد سے اپنی حکومت قائم کی اور نو مہینے اٹھارہ دن حکومت کر کے سن ۶۵ ہجری میں انتقال کر گیا اس کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا عبدالملک رمضان سن ۶۵ ہجری میں تختے نشین ہوا یہی حکومت مروان کی نسل ارسٹھ برس تک رہی اس کے بعد ۱۲۳ ہجری میں دولت عباسیہ قائم ہوئی جو پانچ سو برس سے زیادہ مدت تک رہی۔ 


Comments