میڈک

 میڈا ایک ایسا جانور ہے جو پانی کی تہہ میں اور خشکی کے اوپر بڑی آسانی سے رہتا سہتا ہے اس کا بدن موٹا اور بےڈھنگا ہے بڑا سامنہ موٹی موٹی بڑی بڑی آنکھیں ہیں نرم نرم نجلبی کھال بہت چپچپا اور بھنڈا اسی واسطے نہ تو دیکھنے میں خوبصورت لگتا ہے مگر پھر بھی اس میں کی باتیں عجیب و غریب ہے۔ 


اوّل تو یہی کی جس طرح جمین پر ادھر ادھر پھُدکتا اور چھلانگیں مارتا ہے اسی طرح آسانی کے ساتھ پانی میں تیرتا پھرتا ہے دوسری بات ہے کہ جب وہ پانی میں گھستا مارتا ہے تو ہماری تمہاری طرح دو چار منٹ میں اس کا دم نہیں گھٹتا بلکہ وہ گھنٹوں اندر ہی اندر مزے سے بیٹھا رہتا ہے یا تیرتا پھرتا ہے تیسری بات یہ ہے کہ پانی میں نہ رہے یا بہت سردی ہو تو کبھی تالاب کے نیچے کی مٹی میں کبھی نالوں اور نہروں کے کنارے کے سوراخوں میں یہ مینڈک  اسی طرح رہتے ہیں جسے کوئی سو رہا ہوں اور اسی حالتمیں مہینوں گزارہ کرتے ہیں جب برسات کا موسم آتا ہے تو گویا اس خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں اور ٹرّا ٹرّا کر سارا جنگل سر پر اٹھا لیتے ہیںچوتھی بات یہ ہے کہ میڈک ایسا پھرتیلا اور چاق ہے کی آپنے بیس  گنی اونچائی اچھل جاتا ہے اور پچاس گنی لمبائی پھلانگ سکتا ہے پانچویں سب سے عجیب بات یہ ہے کہ وہ شروع میں مینڈک کی صورت میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ مچھلی کی صورت میں انڈے سے نکلتا ہے تم نے تالابوں پوکھروں  اور کھیتوں کی کیاریوں میں بارہا دیکھا ہوگا 

کی تمہارے آتے ہی سیاہ رنگ کی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں جھلک دکھا کر گہرے پانی کی طرف چلی جاتی ہیں وہ اصل میں میڈک کے بچے ہوتے


ہے  تھوڑے دنوں کے بعد ان کا دھڈ موٹا ہونے لگتا ہے پھر آہستہ آہستہ پچھلی ٹانگیں اور  ہاتھ نظر آنے لگتے ہیں کہ اسی طرح آٹھ ہفتےگزرنے تک پورے میڈک بن جاتے ہیں میڈک کیڑے مکوڑے اور مچھروں کا شکار کر کے کھاتے ہیں اس لیے ان کا گھر میں ہونا بہت مفید ہے مگر شانپ کی تلاش میں رہتے ہیں لہزا جب گھروں میں میڈک بہت ہوں تو بڑا خیال رکھنا چاہیے 

اب میڈھکو کی وفاداری کا ایک واقعہ سنو جب بابل کے کافروں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ختم کرنے کے لیے ایک بہت بڑا آتش کدہ تیار کرکے اس میںآگ جلائی تو اس موقع پر میڈک اپنے منہ میں پانی لے کر پہنچے اور آگ پر چھڑکنے لگے تاکہ وہآگ جلائی تو اس موقع پر میڈک اپنے منہ میں پانی لے کر پہنچے اور آگ پر چھڑکنے لگے تاکہ وہبجائے یہ ظاہر بات ہے کہ میرے کو کے چند قطرے پانی ڈالنے سے ہرگز وہ آگ بجھنے


نہیں سکتی مگر انہوں نے اپنی ثقافت بھر کوشش کرکے یہ ثابت کردیاکی میڈک ایک پیغمبر کے وفادار اور طرفدار ہیں اسی لیے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی علیہ وسلم کے صحابی حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ میڈکوں کو جان سے نہ مارو کیونکہ حضرت ابراہیم کی آگ پر پانی چھڑکتے تھے اب لگے ہاتھوں گرگٹ کا بھی حال سن لو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ بھڑکانے کے لئے پھونک مارتا تھا یہ بالکل کھلی بات ہے کہ گرگٹ سے وہ آگ بھڑک نہیں سکتی تھی مگر اس نےاپنے عمل سے ظاہر کر دیا ہے کہ گرگٹ ایک پیغمبر کا دشمن ہے یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو جان سے مارنے کا حکم دیا ہے۔ 

Comments