بَادشاہ سُبُک تگِیْنْ
سبکتگین پہلے ایک معمولی غلام تھا اس کے پاس صرف ایک گھوڑا تھا روزی کی تنگی کے سبب پریشان رہتا تھا روزی حاصل کرنے کے لیے وہ رجانہ جنگل میں جاتا اور جانوروں کا شکار کرتا تھا ایک دن شکار تلاش کرتا ہوا وہ جنگل میں گھوم رہا تھا اس نے ایک ہرنی دیکھی جو اپنے بچے کے ساتھ چر رہی تھی سبکتگین نے اسے پکڑنے کے لیے گھوڑا دوڑایا ہرنی تو پکڑی نہ جا سکی مگر اس کا ننّھہا بچہ ہاتھ آگیا سبکتگین نے اسے باندھ کر گھوڑے پر رکھ لیا اور شہر کی جانب چل پڑا
ہیر نی نے دیکھا کہ اس کے بچے کو شکاری گھوڑے پر لیے جا رہا ہے تو اس کے دل پر بجلی سی گر گئی وہ بے چین ہوکر سبکتگین کے پیچھے دوڑنے لگی اور فریاد کرنے لگے آگے آگے سبگتگین گھوڑا دوڑاے جا رہا تھا پیچھے پیچھے ہرنی بھی سر جھکا ے چالی آ رہی تھی کچھ دور جانے کے بعد سبکتگین نے مڑ کر دیکھا کہ ہرنی پیچھے پیچھے چلیں اس آراہی ہے اس کے چہرے پر اداسی چھائی ہے بچے کی محبت میں اتنی کھو گئیکی اسے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں گویا وہ کہہ رہی ہے کہ اے شکاری جب تم نے میرے بچے کو پکڑ لیا ہے تو مجھے بھی مار دوں کیونکہ بچے کے بغیر میری زندگی اجیرن ہے سبکتگین کو ہرنی پر رحم آگیا اس نے بچے کو چھوڑ دیا ہرنی نے بچے کو چوما چاٹا اور آسمان کی طرف منہ کرکے دعائیں دینے لگی پھر اپنے بچے کو ساتھ لے کر چوکڑیاں بھرتی ہوئی جنگل کی طرف چلی گئی جب سبکتگین رات کو سویا تو سرکار مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زیارت نسیب ہوئی سرکار نے فرمایا سبکتگین تو نے ایک بے زبان جانور پر رحم کیا ہے اس پر ہم بہت خوش ہوئے ہیں اللہ تعالی تجھے اس رہم کے عوض بادشاہی عطا فرمائے گا مگر یاد رکھنا جس طرح تو نے اس جانور پر ترس کھایا ہیں یوں ہی
بادشاہ ہونے کے بعد اپنی رعایا پر بھی رحم کرتے رہنا اور ظلم و ستم سے ہمیشہ پرہیز کرنا سبکتگین کا خواب سچّا ہوا چونکہ بادشاہ الپ تگین کے لڑکے ابو اسحاق کا انتقال ہوگیا تو شہر غزنی کے بااثر لوگوں نے سن ۳۲۷ ہجری میں سبکتگین کو غزنی کے شاہی تخت پر بیٹھایا اور اس کو اپنا بادشاہ قرار دیا سبکتگین نے اپنا شاہی نام سلطان ناصرالدین رکھا تھا حضرت بادشاہ محمود غزنوی سلطان سبکتگین ہی کے صاحبزادے ہیں تم لوگ حضرت عظیمیہ کے نام سے ضرور واقف ہوگئے ہندو لوگ اور بعض مسلمان آپ کوبالے میاں کے نام سے یاد کرتے ہیں آپ کا پورا نام حضرت سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ ہے
اللہ تعالی کے راستے میں لڑتے ہوئے آپ سحر بہرائچ میں شہید ہوئے ہیں آپ کی والدہ ماجدہ کا نام سَتْرِ مُعَلّٰی ہے حضرت سَتْرِ مُعَلّٰی سُلطان سبکتگین کی صاحزادی اور سلطان محمود غزنوی کی بہن ہیں اس رشتے کو جان لینے کے بعد تم سمجھ گئے ہوں گے حضرت سرکار غازی میاں علیہ الرحمنہ سبکتگین بادشاہ کے نواسے اور سلطان محمود غزنوی کے بھانجے ہیں۔



Comments
Post a Comment