پَیارے مصطففٰے صَلّٰے ﷲ تعالیٰ عَلَیْہِ وَسلّٰم

 سارے جہان میں سب سے بڑا اللہ تعالی نے حضور


پرنور سرکار مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا ہے اللہ تعالی نے حضور کو چاند ،سورج،سمندر،پہاڑ ،پتھر، درخت ، سبزہ،حیوان ،جنّ فرشتا انسان زمین آسمان وغیرہ کا حاکم اور رسول قرار دیا ہے  حضور کی طاقت کے سامنے چاند اور سورج زمین و آسمان دم  نہیں مار سکتے صلی ﷲ تعلٰی علیہ وسلم سونے چاندی کے پہاڑ ،ہمیشہ تاک میں لگے رہتے تھے کی حضور کا حکم ملے تو ہم دونوں زمین چیر کر باہر آجائیں اور حضور کے دائیں بائیں ہاتھ ساتھ چلتے رہے لیکن حضور نے چاندی سونے کو اپنے ساتھ رکھنا منظور نہ کیا صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم۔ حضور کو میروں جسیی ٹھاٹ باٹ والی  زندگی پسند ن تھی غریبوں کی تسلّی کے لے ان کے جیسا رہن سہن اختیار فرمایا پوری مبارک زندگی سادگی کے ساتھ بسر فرمای۔

خادم اور غلام آپ کی بارگاہ میں ہر دم موجود رہتے تھےاور آپ کے بہت سے کام انجام دیتے تھے لیکن آپ کی سادگی  تو دیکھو ایسا بارہا ہوا ہے کہ اپنے نورانی  کرتے  میں خود بھی پیوند لگاتےاپنے مقدس ہاتھوں سے اپنے نورانی کپڑے دھوتے گھر کا کام کاج خود بھی انجام دیتے تھے صلی ﷲ علیہ وسلم حضور کے جودو کرم کا یہ حال تھا کی بے شمار دولت لٹا کر دوسروں کو تو مالدار بنا دیا کرتے تھے لیکن خود گھر کے چولھے میں دو دو ماہ تک آگ جلنے کی نوبت نہ اتی۔ گھر والے صرف چھوہارے اور پانی  پی کر گزارا کرتے تھے۔صلی اللہ تعالیٰ علیہحضور کی سا دہ  زندگی سنکر یہ خیال نہ کرنا کہ حضور مجبور اور محتاج تھےمَعاذ ﷲ تعالی بھلا سوچو تو سہی کی جس پیغمبر کو ﷲ تعالی نے زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک بنایا ہو کیا وہ محتاج ہو سکتا ہے ہرگز نہیں حقیقت یہ ہے کہ حضور نے اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے جان بوجھ کر سادہ زندگی پسند کی تھی صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم ۔ ﷲ تعالی نے چند دن کے لیے فرعون کو بادشاہی دے دی تو وہ گھمنڈ میں آگیا ، اپنا بندہ ہونا کو بھول گیا اپنے کو خدا کہلوانے لگا غریبوں کو ستانے لگا۔ پھر ﷲ تعالٰی نے اس کو اور اس کے لشکر کو دریا میں غرق کر دیا۔لیکن اب حضور کی خوبی سنو اللہ تعالی نے ساری  زمین کی حکومت حضور کو دی ، پورے آسمان کی  بادشاہت حضور کو عطا فرمائ۔ جانور اور درخت حضور کو سجدہ کرتے سلام کرتے رہتے بادل  حضور کے آثارے  پر گھومتے رہے کنکراور پتھر حضور کا کلمہ پڑھتے رہے چاند اور سورج کو اللہ تعالی نے حضور کے بس میں کیا چنانچہ حضور کے اشارہ پر چاند دو ٹکٹرے ہوگیا اور ڈوبا ہوا سورج باہر نکال آیا مگر اتنا سب کچھ ہو تے ہوے ن تو حضور نے کبھی گھنڈلی کیا نہ ﷲ کا کا بندہ ہونے منھ موڑا جہاں اپنے رسول ہونے کا اعلان کرتے رہے وہیں اپنے کو ﷲ تعالیٰ کا بندہ بھی کہتے رہے صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔ ہم بھی حضور کو ﷲ تعالیٰ کا بندہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں مگر کیسا بنسہ ایسا بندہ جس کو سارے جہاں والوں کے لے ﷲ تعالیٰ نے سرا پا رحمت بنایا ہے جس کے نورانی ہاتھوں میں ﷲ تعالیٰ نے دنیا اور عقبیٰ کا سارا خزانہ دے رکھا ہے جس کے کرم کے زمین و آسمان والے محتاج ہیں جس کو ﷲ تعالیٰ نے معراج دی ساتویں آسمان اور عرش اعظم کی سیر کرائی صَلَّى اللَّهُ تعالیٰ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

۔

Comments