نیَت کا پھل

 حضرت سلطان محمود غزنوی علیہ الر حمت بہت


مشہور بادشاہ گزرے ہیں  ایک مرتبہ آپ سیر کرتے ہوئے ایک ایسے دیہات میں جا پہنچے جہاں گنے بہت زیادہ بوئے جاتے تھے آپ نے اب تک گنا دیکھا نہیں تھا جب آپ نے گنا  چوسا تو بہت پسند آیا آپ نے اپنے دل میں سوچا کہ گنے کی پیداوار پر بھی لگانا مقرر کروں گا تا کہ ہر سال ہمارے سہی خزانہ کو ایک نئی آمدنی حاصل ہوتی آمدنی حاصل ہوتی رہے اتنا سوچا تھا کہ اب جو گنا آپ چوستے  ہیں اس میں رس ہی نہیں کسانوں سے کہا کہ لوگو ، کیا بات ہے ک اچانک گنوں سے رس ہی ختم ہو گئے آپ کی بات سن کر ایک بوڑھا کسان سامنے آیا اور کہنے لگا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے بادشاہ کی نیت بگڑ گئی ہے اس نے اپنی سلطنت میں کوئی   ایسا قانون جاری کرنا چاہاہے جس سے رعایا کو تکلیف ہو بس یہی وجہ ہے کہ  گنے کے رس خشک ہو گئے بادشاہ تو خود آپ ہی تھے اور آپ ہی نے گنے کی پیداوار پر لگان مقرر کر نے کا ارادہ کیا تھا بس سمجھ گئے کہ یہ میری ہی نیت کی خرابی کا پھل ہے آپ نے فوًرا دل میں توبہ کی اور ٹھان لہا ک میں ہر گز لگان مقرر نہیں کروں گا توبہ کرنا تھا کہ اب جو گنا چوستے ہیں وہ رس سے بھرا ہوا ملتا ہے۔ بچو م  لک کا سب سے بڑا حاکم  بادشاہ ہوا کرتا ہے جب تک بادشاہ ٹھیک راستہ پر چلتا رہے گاملک کے اندر خوشحالی رہے گی اور جب اس کی نیت بگڑ جائے تو ملک میں تباہی ضرور  پھیلے گی دیکھو محمود غزنوی بادشاہ کے دل میں کھیتوں کی لگان  بڑھا دینے کا خیال پیدا ہوا گنوں کے رس کی برکت ختم ہو گئی اور جب بادشاہ نے توبہ کر لی اور نیت ٹھیک کر لی تو ﷲ تعال
نے گنوں کو رسیلا بنا دیا معلوم ہوا کہ  اچھی نیت کا پھل اچھا ہیں اور بری نیت کا پھل برا ہے

Comments